|
ذات باری کا وجود تو ایک مانی ہوئی حقیقت کو ماننا ہے، یہ کوئی ایسی چیز نہیں ہے جسے تجربات سے دریافت کیا گیا ہو۔ یہ تو انسان کے اندر موجود ہے۔ جب انسان اپنے وجود پر غور کرتا ہے تو بغیر کسی تردد کے یہ جان لیتا ہے کہ میں کسی کا بندہ ہوں اور کوئی میرا مالک ہے۔
|